کرتار پورراہداری ، سائنس ڈپلومیسی اور پنجابی فلم چل میرا پت
یہ 1987 کی بات ہے جب اس وقت کے پاکستان کے صدر ضیاالحق
نے بھارت
کا دورہ کیا اور پاکستان اور بھارت کی
کرکٹ ٹیموں کے مابین جاری میچ سٹیڈیم میں خود جا کر دیکھا۔
اس دورے کواس وقت "کرکٹ
ڈپلومیسی" کے لفظ سے تعبیر کیاگیا۔اور
صدر ضیاالحق کے اس اقدام کو پوری دنیا میں
خوب سراہا گیا۔ اور
امید کی جانے لگی کے شاید اب یہ
دو ہمسائے دنیا کے لیے امن و آشتی کی ایک تاریخی
مثال بن جا
ئیں ۔
لیکن پاک بھارت تعلقات
کی ہمیشہ کی چلی آنےوالی غیر یقینی روایت یہاں بھی بر قر
ار رہی۔ اور اس سب کے کچھ عرصے بعد ہی ہونے والے ایٹمی دھماکے ان سب
خوش فہمیوں ،خوش گوار تعبیروں اور جنم
لیتی امیدوں کو بھی اپنے ساتھ ہوا میں
اڑالے گئے۔
اسی تناظرمیں بعد ازاں
دنیا کے نمبر 1 سائنسی تحقیقی
جریدے نیچر نے ایک کالم بھی لکھا۔
اس کالم میں پہلی دفعہ پاک و ہند کے بہتر تعلقات کے لئے سائنس ڈپلومیسی کا لفظ استعمال کیا گیا تھا۔ ان کا لکھنا تھا کے ان دونوں قوموں کے
تعلقات خواہ کتنے ہی خراب کیوں نا ہو
جائیں
لیکن بارڈر کے اطراف عوامی سطح پر کچھ ایسی مقبول چیزیں بھی ہیں جو ان بدلتے حالات سے کافی حد تک آزاد ہیں۔
مثال کے طور پر پاکستانی عوام میں ہمیشہ سےمقبول انڈین فلمیں اور انڈین شائقین کی طرف سے پاکستانی ڈراموں کی بے پناہ
پزیرایئ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ھے۔اس کے علاوہ پاکستانی مذہبی طبقے کی
انڈیا میں موجود اولیا ء اللہ کے مزارات
اور بریلی شریف اور دیوبند سےان کے عقیدت مندوں کی محبت بھی سبھی جانتے ھیں۔
اوران سب کے ساتھ ہی ساتھ پوری دنیامیں
موجود سکھوں کی پاکستان کے لیے روحانی محبت کرتارپور صاحب میں موجود ان کے مقدس ترین مذہبی مقام کی وجہ سے ہے سب پر عیاں
ھے۔اور یہ سب عوامل ایسے ہیں جوبہرحال عوامی سطح پر اپنی ایک
بھرپور اہمیت رکھتے ہیں۔
لیکن ان سب کے علاوہ
پاک و ہند کا ایک طبقہ ایسا بھی
ہے جو دونوں ممالک کےلیے خاصی اہمیت کا
حامل ہےاور ہمیشہ سے نہ صرف بین الاقوامی سطح پر بلکہ
آپس میں بھی تنہایئ کا شکار رہا ہے ۔اور وہ ہیں ان کے سائینسی
محققین –
جی ہاں وہ ہی سائینسی محققین
جنہوں نے ان ممالک کو دنیا کی ایٹمی طاقتوں کی صفوں میں لا کھڑا کیا اور انہیں ایک نئی شناخت دی۔یہ ہی محققین جب
دنیا کے مختلف مملک میں کانفرنسز پر ملتے ہیں تو آپس میں گفتگو بھی کرتے ہیں اور
سائنسی روابط پر بات بھی کرتے ہیں۔ لیکن
ملکی سطح پر کوئی جامع قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے یہ خیالات صرف باتوں کی حد تک ہی محدود رہ جاتے
ہیں۔
اگر یہ دونوں ممالک
سایئنس ڈپلومیسی کے ذریعے اپنی اپنی
سائنسی ورک فورس کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم
مہیا کر دیں تو اس کے ذریعے یہ اپنے بہت حد تک مشترکہ مسائل یعنی
ماحولیاتی آلودگی، پینے کا صاف پانی اور اس طرح کے دیگر مسائل
کا حل نکال سکتے ہیں اور اپنی قوموں کے معیار زندگی کو بلندبھی کر
سکتے ہیں۔
اسی سلسلے میں اگر ہم یورپ کی مثال لیں تو پہلی جنگ عظیم کے بعد یہ سائنس ڈپلومیسی
ہی تھی جس نے نہ صرف ان کو یکجا کیا بلکہ ان کے معاشرتی مسائل کا حل بھی پیش کیا
اور اب ان کی ترقی ایک مسلمہ حقیقت بن چکی
ہے۔
موجودہ وقت میں پاک و ہند تعلقات بلاشبہ ایک نئی نہج پر چل
نکلے ہیں۔جس میں مذہبی ڈپلومیسی اور کلچرل ڈپلومیسی نے ایک اہم کردارادا کیا ہے۔ مذہبی
ڈپلومیسی میں کرتار پور راہداری کا کھل جانا مذہبی رواداری کی ایک شاندار مثال ہے جس نے بر صغیر کی تاریخ کو ایک
نیا موڑ دیا ہے۔
اس کے علاوہ کلچرل ڈپلومیسی کے طور پر انڈین پنجابی فلموں کی پاکستان میں بے پناہ مقبولیت نے بھی ایک اہم
کردار ادا کیا ہے۔اس کی تازہ ترین مثا ل پاکستان اور انڈیاکے پنجابی فنکاروں کی ریکارڈ
بریکنگ مشترکہ فلم "چل میرا پت" ہے۔
یہ کہنا بے جا نہ
ہو گا کےمذہبی ڈپلومیسی اور کلچرل ڈپلومیسی نے دونوں ممالک کے تعلقات کو اگر یکسر
بدل نہیں دیا تو کم از کم بہتری کی ایک نئی راہ ضرور دکھائی ہے۔
اسی طرح اس سلسلہ
کی ایک اور اہم کڑی سائنس ڈپلومیسی بھی ہو سکتی ہے۔ اور اس سا یئنس ڈپلومیسی کے لیےایک بہترین بنیاد پاکستان کی 2 یونیورسیٹیاں ، یونیورسیٹی
آف نارووال (جس میں حال ہی میں اس کے
موجودہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طارق
محمود نے "بابا گرو نانک چیئر"کے قیام کا اعلان کیا ہے) اور بابا گرونانک یونیورسٹی ننکانہ صاحب فراہم کر سکتی ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کے ارباب حل وعقد کب ہر دو ملکی سطح پر سائنس ڈپلومیسی کےفرو غ کے لئے کوئی واضح اور ٹھوس عملی اقدامات کا اعلان کرتے ہیں۔
No comments:
Post a Comment